Showing posts with label اردو آرٹیکل. Show all posts
Showing posts with label اردو آرٹیکل. Show all posts
Thursday, September 11, 2014
Friday, September 5, 2014
چینی صدر کا دورہ پاکستان حقائق اور افواہیں
ملک میں جاری شدید سیاسی بحران کا بظاہر کوئی حل نکلتا نظر نہیں آتا. حکومت اور اسکی اتحادی جماعتیں جہاں خود انتخابات میں دھاندلی کا اعتراف کرتے ہیں وہیں اس آلودہ جمہوریت کو بچانے کی قراردادیں بھی منظور کرتے نظر آتے ہیں.کہیں امریکا کو حمایت کرنی پڑتی ہے تو کہیں امن کی آشا کی کوششیں کرنے والے ڈیمو کریسی بلکہ ڈیمو کریزی کی حمایت میں سب سے آگے نظر آتے ہیں. پچلھے چند دنوں میں رونما ہونے والے واقعات نے جہاں پاکستانی جمہوریت کی حقیقت واضح کردی وہاں بہت سارے جمہوریت کے علمبرداروں کی حقیقت بھی سامنے آگئی.چوہدری نثار اور احسن اقبال نے ٹویٹر پر عمران خان اور قا دری کو چینی صدر کے دورہ منسوخ کرنے کا ذمہ دار ٹھرایا اور افسوس کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان میں اربوں روپے سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا تھا. یہ خبریں میڈیا پربھی چلائی گئیں اور ایک عام پاکستانی کے ذہن میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی گئی عمران اور قادری کی وجہ سے پاکستان کی نہ صرف بے عزتی ہوئی بلکہ بہت بڑا نقصان بھی ہوا لیکن اگر ہم اس واقعہ کی حقیقت جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ایک اور جھوٹ بولا. حقائق جاننے کے لیے میرے ایک دوست نے جب چین کی فارن افئیرز کی وزارت سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ نہ تو انہوں نے اس بارے میں کوئی معلومات جاری کی ہیں اور نہ ہی اس قسم کے کسی دورے کی کوئی تاریخ ہی جاری کی گئی ہے تو منسوخی کیسی اس بارے میں جب پاکستان کے فارن آفس سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ ہمیں اس دورے کے کسی تاریخ کا علم نہیں ہے. یہ حساس نوعیت کے معاملات ہیں حکومتی اراکین کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کے واحد سٹریٹجک پارٹنر اور دوست ملک کے صدر کے بارے میں ایسے ننگے جھوٹ سے اجتناب کرنا چاہئیے. جہاں تک چین کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی افواہوں کا تعلق ہے تو یہ بے بنیاد ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سات فیصد سود پر قرض کا ماہدہ ہے جسکا فائدہ پاکستان کو نہیں بلکہ میاں منشا اور شہباز شریف کو ہی ہونا تھا .
نواز حکومت اپنے مفاد اور تحفظ کے لیے کبھی اس ٹی وی چینل کا سہارا لے رہی ہے جس نے بھگوان سے معافی مانگنے والے انڈین ایجنٹ کو پاکستانی ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی اور نظریہ پاکستان کی کھل کر مخالفت کی. اسی چینل نے پاکستان کی مقدس آرمی اور آئی ایس آئی کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کی.
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ نواز حکومت کی حمایت میں صرف ملک دشمن عناصر ہی سامنے آرہے ہیں مودی جسکو اسلام اور خصوصا پاکستان دشمنی کی بنا پر ووٹ ملا میاں صاحب کی حکومت کی حمایت کرچکے ہیں دوسری طرف بدنام زمانہ جیو چینل ہے کہیں عاصمہ جہانگیر ہیں تو کہیں ماروی سرمد اور کہیں پاکستان آرمی کے خلاف بغاوت کرنے والا نجم سیٹھی .پچلھے دنوں جب آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے دھرنے اپنی پوری طاقت دکھا رہے تھے تو ہندوستان نے پاکستانی سرحدوں پر فائرنگ کرکے حالت کشیدہ کیے اور اب جب ماہرین یہ کہنا شروع ہوگئے کہ تاریخ کی بد ترین شلینگ کے باوجود دھرنوں کا نہ ختم ہونا انکی بہت بڑی کامیابی ہے تو ہندوستان نے پاکستان پر پانی چھوڑا جسکی وجہ سے ملک بھر میں سیلاب نے تباہی مچادی اور الطاف حسین نے عمران اور قادری کو دھرنے ختم کرنے کا مشورہ دیا. پاکستان میں جاری بارشوں کی وجہ سے سیلاب ضرور آیا ہے لیکن ماہرین کے مطابق اصل تباہ کاری تب ہوئی جب انڈیا نے بغیر پیشگی اطلاع کے پاکستانی دریاؤں میں پانی چھوڑا.
ملک میں جاری شدید سیاسی بحران کا بظاہر کوئی حل نکلتا نظر نہیں آتا. حکومت اور اسکی اتحادی جماعتیں جہاں خود انتخابات میں دھاندلی کا اعتراف کرتے ہیں وہیں اس آلودہ جمہوریت کو بچانے کی قراردادیں بھی منظور کرتے نظر آتے ہیں.کہیں امریکا کو حمایت کرنی پڑتی ہے تو کہیں امن کی آشا کی کوششیں کرنے والے ڈیمو کریسی بلکہ ڈیمو کریزی کی حمایت میں سب سے آگے نظر آتے ہیں. پچلھے چند دنوں میں رونما ہونے والے واقعات نے جہاں پاکستانی جمہوریت کی حقیقت واضح کردی وہاں بہت سارے جمہوریت کے علمبرداروں کی حقیقت بھی سامنے آگئی.چوہدری نثار اور احسن اقبال نے ٹویٹر پر عمران خان اور قا دری کو چینی صدر کے دورہ منسوخ کرنے کا ذمہ دار ٹھرایا اور افسوس کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان میں اربوں روپے سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا تھا. یہ خبریں میڈیا پربھی چلائی گئیں اور ایک عام پاکستانی کے ذہن میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی گئی عمران اور قادری کی وجہ سے پاکستان کی نہ صرف بے عزتی ہوئی بلکہ بہت بڑا نقصان بھی ہوا لیکن اگر ہم اس واقعہ کی حقیقت جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ایک اور جھوٹ بولا. حقائق جاننے کے لیے میرے ایک دوست نے جب چین کی فارن افئیرز کی وزارت سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ نہ تو انہوں نے اس بارے میں کوئی معلومات جاری کی ہیں اور نہ ہی اس قسم کے کسی دورے کی کوئی تاریخ ہی جاری کی گئی ہے تو منسوخی کیسی اس بارے میں جب پاکستان کے فارن آفس سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ ہمیں اس دورے کے کسی تاریخ کا علم نہیں ہے. یہ حساس نوعیت کے معاملات ہیں حکومتی اراکین کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کے واحد سٹریٹجک پارٹنر اور دوست ملک کے صدر کے بارے میں ایسے ننگے جھوٹ سے اجتناب کرنا چاہئیے. جہاں تک چین کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی افواہوں کا تعلق ہے تو یہ بے بنیاد ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سات فیصد سود پر قرض کا ماہدہ ہے جسکا فائدہ پاکستان کو نہیں بلکہ میاں منشا اور شہباز شریف کو ہی ہونا تھا .
نواز حکومت اپنے مفاد اور تحفظ کے لیے کبھی اس ٹی وی چینل کا سہارا لے رہی ہے جس نے بھگوان سے معافی مانگنے والے انڈین ایجنٹ کو پاکستانی ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی اور نظریہ پاکستان کی کھل کر مخالفت کی. اسی چینل نے پاکستان کی مقدس آرمی اور آئی ایس آئی کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کی.
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ نواز حکومت کی حمایت میں صرف ملک دشمن عناصر ہی سامنے آرہے ہیں مودی جسکو اسلام اور خصوصا پاکستان دشمنی کی بنا پر ووٹ ملا میاں صاحب کی حکومت کی حمایت کرچکے ہیں دوسری طرف بدنام زمانہ جیو چینل ہے کہیں عاصمہ جہانگیر ہیں تو کہیں ماروی سرمد اور کہیں پاکستان آرمی کے خلاف بغاوت کرنے والا نجم سیٹھی .پچلھے دنوں جب آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے دھرنے اپنی پوری طاقت دکھا رہے تھے تو ہندوستان نے پاکستانی سرحدوں پر فائرنگ کرکے حالت کشیدہ کیے اور اب جب ماہرین یہ کہنا شروع ہوگئے کہ تاریخ کی بد ترین شلینگ کے باوجود دھرنوں کا نہ ختم ہونا انکی بہت بڑی کامیابی ہے تو ہندوستان نے پاکستان پر پانی چھوڑا جسکی وجہ سے ملک بھر میں سیلاب نے تباہی مچادی اور الطاف حسین نے عمران اور قادری کو دھرنے ختم کرنے کا مشورہ دیا. پاکستان میں جاری بارشوں کی وجہ سے سیلاب ضرور آیا ہے لیکن ماہرین کے مطابق اصل تباہ کاری تب ہوئی جب انڈیا نے بغیر پیشگی اطلاع کے پاکستانی دریاؤں میں پانی چھوڑا.
نواز حکومت اپنے مفاد اور تحفظ کے لیے کبھی اس ٹی وی چینل کا سہارا لے رہی ہے جس نے بھگوان سے معافی مانگنے والے انڈین ایجنٹ کو پاکستانی ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی اور نظریہ پاکستان کی کھل کر مخالفت کی. اسی چینل نے پاکستان کی مقدس آرمی اور آئی ایس آئی کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کی.
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ نواز حکومت کی حمایت میں صرف ملک دشمن عناصر ہی سامنے آرہے ہیں مودی جسکو اسلام اور خصوصا پاکستان دشمنی کی بنا پر ووٹ ملا میاں صاحب کی حکومت کی حمایت کرچکے ہیں دوسری طرف بدنام زمانہ جیو چینل ہے کہیں عاصمہ جہانگیر ہیں تو کہیں ماروی سرمد اور کہیں پاکستان آرمی کے خلاف بغاوت کرنے والا نجم سیٹھی .پچلھے دنوں جب آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے دھرنے اپنی پوری طاقت دکھا رہے تھے تو ہندوستان نے پاکستانی سرحدوں پر فائرنگ کرکے حالت کشیدہ کیے اور اب جب ماہرین یہ کہنا شروع ہوگئے کہ تاریخ کی بد ترین شلینگ کے باوجود دھرنوں کا نہ ختم ہونا انکی بہت بڑی کامیابی ہے تو ہندوستان نے پاکستان پر پانی چھوڑا جسکی وجہ سے ملک بھر میں سیلاب نے تباہی مچادی اور الطاف حسین نے عمران اور قادری کو دھرنے ختم کرنے کا مشورہ دیا. پاکستان میں جاری بارشوں کی وجہ سے سیلاب ضرور آیا ہے لیکن ماہرین کے مطابق اصل تباہ کاری تب ہوئی جب انڈیا نے بغیر پیشگی اطلاع کے پاکستانی دریاؤں میں پانی چھوڑا.
Monday, August 18, 2014
پاکستان اور اسرائیل کا مستقبل (حصہ پنجم) سیدنا سلیمان علیہ سلام اور فری میسن
پاکستان اور اسرائیل کا مستقبل (حصہ پنجم) سیدنا سلیمان علیہ سلام اور فری میسن
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سیدنا سلیمان علیہ سلام کو بہت فہم و فراست اور بادشاہی عطا فرمائی تھی ہوا اور جنات کو انکا مطیع و فرمانبردار کیا تھا نیز ان کو جانوروں کی بولی کی بھی سمجھہ عطا کی تھی. اتنی زبردست بادشاہی الله نے پھر کسی اور کو عطا نہیں کی.
قرآن مجید میں سورہ سباء میں الله تعالیٰ نے سلیمان علیہ سلام کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے الله نے ہوا کو انکی سواری بنایا تھا اور جنات الله کے حکم سے انکے لیے تعمیرات کا کام کرتے تھے یعنی وہ معمار تھے اس سے اس نظرییے کی بھی تائید ہوتی ہے جو ہم نے اہرام مصر کی تعمیر کے بارے میں بیان کیا کہ شائد شیاطین (جنات ) نے فرعون کی مدد کی تھی. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنات فن تعمیر میں اچھی خاصی مہارت رکتھے ہیں.
فی زمانہ لوگ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ شائد جنات کو علم غیب حاصل ہے سورہ سباء میں سیدنا سلیمان علیہ سلام کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نےاسکی نفی فرمائی کیونکہ سیدنا سلیمان علیہ سلام کسی تعمیر کے دوران جنات کی نگرانی کر رہے تھے کہ وفات پا گئے مگر الله نے جنات سے پوشیدہ رکھا اور جب وہ اپنا کام کرچکے تو انکی عصأ کو دیمک نے کھا کر کمزور کردیا اور انکی جسد مبارک گرگئی تب جنات کو معلوم ہوا کہ آپ علیہ سلام وفات پا چکے ہیں.
سیدنا سلیمان علیہ سلام نے سبا کی ملکہ بلقیس (شیبا ) کو سورج کی پرستش چھوڑ کر خدائے واحد کی عبادت کی طرف بلایا اس واقعہ کی تفصیلات ابن کثیر میں ملاحظہ کریں. سبا کے باسیوں اور انکی املاک کو الله نے سیلاب کی ذریے برباد کریا تھا.
یہاں چند ضروری نکات ذہن نشین کرلیں.
١: سیدنا سلیمان علیہ سلام سیدنا داودعلیہ سلام کے صاحبزادے ہیں اور بنی اسرائیل کے ایک جلیل قدر پیغمبر ہیں آپ کا زمانہ قریبا ایک ہزار سال قبل از مسیح ہے جبکہ سیدناموسیٰ علیہ سلام آپ علیہ سلام تقریبا پانچ سو سال پہلے گزر چکے ہیں.
٢: ایک بشر یعنی سیدنا سلیمان علیہ سلام کو الله تعالیٰ نے جنات (شیاطین ) پر حاکم بنایا تھا جو ان سے بغیر کسی اجرت کے عبادت گاہیں، مجسمے، اور پانی وغیرہ جمع کرنے کے تالاب بنوایا کرتے تھے جسکا ظاہر ہے ابلیس کو بڑا غصہ ہوگا.
٣: یہ اسی بنی اسرائیل کے نبی تھے جسکے نبی سیدنا موسیٰ علیہ سلام بھی تھے جس سے شیطان کی پرانی دشمنی تھی.
٤: سباء کے لوگ بھی سورج کی پرستش کیا کرتے تھے یعنی ان پر بھی شیطان نے کافی محنت کی تھی.
٥: یہ جنات (شیاطین ) معمار یعنی میسن تھے جن کو کوئی اجرت یا معاوضہ نہیں ملتا تھا مطلب فری میں کام کیا کرتے تھے کیونکہ الله نے انکو زبردستی سیدنا سلیمان علیہ سلام کے تصرف میں دیا تھا.
سیدنا سلیمان علیہ سلام کی دور میں جنات اور انسانوں کا میل جول بڑھا آپ علیہ سلام کی وفات کے بعد یہ آزاد ہو گئے اور آپ کی قوم سے بدلہ لینے کی ٹھان لی ادھر لوگ بھی جنات کے حیرت انگیز کارنامے دیکھہ چکے تھے ان کی بھی خواہش تھی کہ شیاطین انکی بھی اسی طرح مدد کریں تاکہ انکے کام بھی آسان ہوں یہی خواہش ان کو لے ڈوبی شیاطین نے کام کے بدلے انکو اپنی عبادت پر مجبور کردیا اور ان شیطان پرستوں نے عام لوگوں سے اپنے آپ کو مخفی رکھنے کےلیے اشاروں کناروں کا استعمال شروع کیا یعنی ہاتھ ملانے کا عجیب انداز یا کوئی انگھوٹی یا اور نشانات تاکہ وہ عام لوگوں میں رہ کر ایک دوسرے کو پہچان سکیں. شیاطین کی عبادت کے بدلے انہوں نے دنیاوی دولت وغیرہ حاصل کی اور اسی دولت کے بل بوتے انہوں نے معاشرے میں بظاہر ایک اعلی مقام حاصل کیا. یہ ان مفت کے معماروں (فری میسن ) کا بدلہ تھا جو شیطان نے ان سے لیا.
( مفت کے معماروں ) فری میسن کے اشارے اور دوسرے نشانات انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں وہاں دیکھہ لیں.
سورہ سبا آیت ٤١: وہ (فرشتے) کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے نہ (کہ ) یہ بلکہ یہ جنات کو پوجا کرتے تھے. اور اکثر انہی کو مانتے تھے.
جاری ہے
Tuesday, August 12, 2014
پاکستان اور اسرائیل کا مستقبل (حصہ چہارم )اہرام مصر اور زاینسٹ
پاکستان اور اسرائیل کا مستقبل (حصہ چہارم )اہرام مصر اور زاینسٹ
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرعون اور ہامان کا ایک مکالمہ نقل کیا ہے ( ترجمہ ) اور فرعون نے کہا اے اہل دربار میں تمہارا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں جانتا ( یعنی میرے سوا تمہارا کوئی اور خدا نہیں ہے )تو ہامان میرے لیے گارے کو آگ لگوا ( کر اینٹیں پکوا ) دو پھر ایک (اونچا ) محل (مقام ) بنادو تاکہ میں موسیٰ کے خدا کی طرف (لڑنے کے لیے ) چڑھ جاؤں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں.
یہ اہرام فرعون کی انتہائی سرکشی اور شیطان کی اس سے محبت کا ثبوت ہیں غالباً شیاطین نے ہی انکی تعمیر میں فرعون کی مدد کی تھی. شیطان کے لیے یہ اہرام اس سنہرے دور کی نشانی بھی ہیں جب وہ فرعون کے ذرئیے دنیا پر حکومت کررہا تھا.
ایک زمانے سسے ابلیس نے لوگوں کو سورج کی پرستش پر لگا یا تھا مصر، یونان اور روم کے علاوہ بھی دنیا کے کئی معاشروں میں سورج کی عبادت ہوا کرتی تھی. یوں اہرام مصر کی طرح سورج کو بھی ابلیس اپنی کامیابی کی نشانی گردانتا ہے.
مستقبل میں ابلیس فرعون کے طرز کے کسی بادشاہ کی پیروی کے لیے لوگوں کوذہنی طور پر تیار کر رہا ہےایک ایسا بادشاہ جو فرعون کی طرح خدائی کا دعوہ کریگا جو اسی کی طرح قتل و غارت کریگا اسی کی طرح سرکش ہوگا اسی کی طرح دنیا کے وسائل پر قابض ہوگا مگر اس دفعہ ابلیس اپنی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتا وہ اسکے آنے سے پہلے ہر ہر لحاظ سے تسلی کر رہا ہے کہ اسکو دنیا میں کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے.اسکے آنے سے پہلے اسکی فوج تیار ہو . دنیا کی تمام دولت اسکے قبضے میں ہو اور پوری دنیا متحد ہوکر اسکو خوش آمدید کہے.
زیر نظر تصویر میں امریکی ڈالر میں آپ ابلیس کی ان تینوں نشانیوں کو دیکھہ لیں یعنی اہرام سورج اور آنے والے کانے دجال کی آنکھہ.
ایک زمانے سسے ابلیس نے لوگوں کو سورج کی پرستش پر لگا یا تھا مصر، یونان اور روم کے علاوہ بھی دنیا کے کئی معاشروں میں سورج کی عبادت ہوا کرتی تھی. یوں اہرام مصر کی طرح سورج کو بھی ابلیس اپنی کامیابی کی نشانی گردانتا ہے.
مستقبل میں ابلیس فرعون کے طرز کے کسی بادشاہ کی پیروی کے لیے لوگوں کوذہنی طور پر تیار کر رہا ہےایک ایسا بادشاہ جو فرعون کی طرح خدائی کا دعوہ کریگا جو اسی کی طرح قتل و غارت کریگا اسی کی طرح سرکش ہوگا اسی کی طرح دنیا کے وسائل پر قابض ہوگا مگر اس دفعہ ابلیس اپنی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتا وہ اسکے آنے سے پہلے ہر ہر لحاظ سے تسلی کر رہا ہے کہ اسکو دنیا میں کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے.اسکے آنے سے پہلے اسکی فوج تیار ہو . دنیا کی تمام دولت اسکے قبضے میں ہو اور پوری دنیا متحد ہوکر اسکو خوش آمدید کہے.
زیر نظر تصویر میں امریکی ڈالر میں آپ ابلیس کی ان تینوں نشانیوں کو دیکھہ لیں یعنی اہرام سورج اور آنے والے کانے دجال کی آنکھہ.
دجال کے بارے میں ہم پچھلی تحریروں میں ذکر کر چکے ہیں یہاں صرف ان زاینسٹ یہودیوں اور فرعون کے تعلق کو مختصرا بیان کرنا مقصود تھا.
دجالی قوتیں اس وقت پوری دنیا میں اپنے ہم خیال لوگوں کو اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں ان لوگوں کا تعلق بظاہر کسی بھی مذہب فرقے سیاسی جماعت سے ہوسکتا ہے یہ ٹی وی پر معصوم نظر آنے والے اداکار بھی ہوسکتے ہیں کسی مذہبی جماعت کے پیشوا بھی اور سیاست دان بھی ان کا مقصد صرف کانے دجال کے لیے راہ ہموار کرنا ہے.
انہوں نے نیٹو کی صورت میں دجالی فوج بنائی.
یو - این - او کی صورت میں پوری دنیا کی ایک مرکزی اسمبلی بنائی.
میڈیا کے ذریے ون ورلڈ اور گلوبل ویلج کے اصطلاحات عام کیے.
اب وہ اس بات کی لیے کوشاں ہیں کہ دنیا بھر میں ایک ایسی زبان ( انگلش) ہو جو سب کے لیے تعلیم روزگار اور رابطے کا کام کرسکے.
پوری دنیا میں بس ایک ہی قانون ( نیو ورلڈ آرڈر )ہو.
دنیا بھر میں صرف ایک ہی کرنسی ہو.( یورو اسی کی ایک تجرباتی شکل ہے )
تا کہ لوگ دجال کے آنے سے پہلے اسکے نظام سے آشنا ہوں اور اس کے آنے پر دل و جان سے اسکا استقبال کریں.
(جاری ہے )Friday, August 8, 2014
پاکستان اور اسرائیل کا مستقبل (حصہ سوم ) ابلیس اور دجالیت
پاکستان اور اسرائیل کا مستقبل (حصہ سوم ) ابلیس اور دجالیت
پچھلی تحریر میں ہم نے دجال کے بارے میں چند احادیث کا حوالہ دیا تھا تاکہ اس کے کردار اور فتنہ کے بارے میں آپ کو آگاہی ہو.
آج کی تحریر میں ہم انسانیت کے سب سے بڑے اور ازلی دشمن ابلیس کی انسان دشمنی اور دنیا میں جاری خونریزی پر مختصر بات کرینگے-
قران شریف میں سورہ بقرہ میں سیدنا آدم علیہ سلام کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوے الله نے فرمایا " اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے" (٢:٣٠)
زمین پر انسان کے آنے سے پہلے یہاں جنات آباد تھے. ان پر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ آپس میں لڑنا جگھڑنا شروع ہوگئے اور اس حد تک سرکش ہوگئے کہ ایک دوسرے کا خون بہانے اور قتل کرنے سے بھی نہ کتراتے. فرشتوں نے الله کے حکم سے ان میں جو بڑے سرکش تھے انکو قتل کردیا اور باقیوں کو زمین میں منتشر کردیا. انہی میں سے ایک عزازیل تھا جو اس سارے ہنگامے سے یکسو الله کی عبادت کیا کرتا تھا. فرشتوں کی سفارش پر الله نے اسکو بڑی عزت کا مقام عطا کیا اور اسکو جنت میں فرشتوں کیساتھ رہنے کی اجازت دی. عزازیل نے اور اہتمام اور زور شور سے الله کی عبادت شروع کی تاکہ الله جب دوبارہ زمین کو آباد کرے تو اسکی سرداری اور بادشاہی اسکے سپرد کردے مگر الله نے تخلیق آدم کا ارادہ ظاہر فرمایا. مذکورہ آیت میں فرشتوں کا یہ سوال کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے؟ دو وجوہ کی بنا پر ہوسکتا ہے یا تو انہوں نے انسان کو جنات پر قیاس کیا کہ جسطرح انہوں نے زمین میں فساد برپا کیا تھا اسی طرح شائد انسان بھی کرے یا پھر عزازیل (ابلیس ) نے فرشتوں کو کہا ہوگا کہ انسان بھی اسی طرح فساد کریگا تاکہ الله تعالیٰ آدم کی تخلیق کی بجائے ابلیس کو ہی نائب بنادے مگر اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ذریت آدم سے آباد کرنے کا ارادہ کیا تھا جو ہوکر ہی رہا اور یوں ابلیس کے دل میں آدم علیہ سلام کے لیے بغض پیدا ہوا اور اسی بغض کی بنا پر اسنے سجدے سے انکار کیا جسکی سزا یہ ملی کہ وہ ہمیشہ کے لیے لعنتی ٹہرا.
اس واقعہ سے ابلیس کے ہاتھ دو فرمولے آئے.پہلا یہ کہ کسی معاشرے کی کامیابی کا دارومدار ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی اعمال پر ہوتا ہے کوئی خود کتنا بڑا عبادت گزار اور عالم کیوں نہ ہو جب تک وہ دوسروں کو نیکی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے معاشرے میں سنوار نہیں آسکتا.
دوسرا یہ کہ جب قتل و خون کرنے پر الله تعالیٰ جنات سے اقتدار چیھن سکتا ہے تو وہ انسان سے بھی اقتدار چیھن لے گا اگر انسان بھی آپس میں ایک دوسرے کا نا حق قتل و خون کرنا شروع کردیں.
لعنتی ابلیس نے ہر زمانے میں آدم علیہ سلام کی اولاد کو آپس میں لڑوانے کی کوششیں کی ہیں اور زمین کو فساد سے بھردیا ہے مگر الله نے ابلیس کے نمرود کے لیے ابراہیم علیہ سلام اسکے فرعون کے لیے موسیٰ علیہ سلام اسکے جالوت کے لیے داؤد علیہ سلام اسکے ابو جہل ، ابی لہب کے لیے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیج کر ابلیسی فتنہ کا قلع قمہ کردیا.نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد الله نے مجاہدین اسلام کو یہ توفیق دی کہ وہ ابلیسی فتنوں کیخلاف ڈٹ گئے.
ابلیس ہزارہا تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ جب تک الله کے بندے اسکی راہ میں لڑتے رهینگے اسکی دال گھلنے والی نہیں. یوں اسنے ہر معاشرے میں ایسے لوگ پیدا کیےجو نہ صرف خود مذہب سے بیزار ہوں بلکہ دوسروں کو بھی مذہب سے بیزاری کا درس دیں ا بلیس اس مقصد میں مغربی معاشرے میں اچھا خاصا کامیاب رہا لیکن مشرق خصوصا مسلمانوں میں اسے قدرے مزاحمت کا سامنا تھا جس کنے لیےاس نے اولا میڈیا کا سہارا لیا اور مجاہدین کو پورے دنیا میں بدنام کرنا شروع کیا اور پھر اپنے پیروکاروں کے ساتھ ملکر ایسی تنظیمیں بنائی جو خود کو مجاہدین کہہ کر اسلام اور با کردار مجاہدین کو بدنام کریں. ان تنظیموں کے ذرئیے پہلے کسی علاقے میں بد امنی پیدا کی جاتی ہے پھر اپنے پیروکاروں کی فوج بھیج کر اس پر قبضہ کرلیا جاتا ہے اور وہاں کے لوگوں کو زنا شراب میں لگا کر ترقیافتہ ہونے کا سند دے دیا جاتا ہے. ماضی میں ابلیس نے اپنے جنات کیساتھ ملکر فرعون کی بہت مدد کی تھی وہ فرعون کے ذرئیے پوری دنیا پر شیطانی حکومت قائم کرنا چاہتا تھا مگر الله نے موسیٰ علیہ سلام کے ذرئیےابلیس اورفرعون کو شکست دی فرعون تو مر گیا مگر ابلیس نے موسیٰ علیہ سلام کے پیروکاروں کو اپنا نشانہ بنانا شروع کیا.سورہ بقرہ میں الله نے اسکی تفصیل بیان کی ہے. بنی اسرائیل نے تین تین پیغمبروں کی موجودگی میں ہامان کے بنائے ہوئے بچھڑے کی عبادت کی. الله تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کردیا.جہاد سے انکار کیا الله کی نعمت من و سلویٰ کو چھوڑ کر پیاز،لہسن اور مسور کھانے کی فرمائش کرڈالی.الله کے کلام کو بدل ڈالا.ممنوعہ دن مچھلی کا شکار کیا.الله کے برگزیدہ پیغمبروں کو نا حق شہید کیا.انکی اس ہٹ درمی کی وجہ سے الله تعالیٰ ان پر غضبناک ہوا کہ اللہ کے سیدھے رستے کو چھوڑ کر شیطان کے رستے لگ گئے تو الله نے بھی ان کو شیطان کے حوالے کردیا. آج یہودی علم رکنھے کے باوجود گمراہ ہیں اور مسیح روح اللہ علیہ سلام کی بجائے مسیح دجال کو اپنا نجات دھندہ مان رہے ہیں. (جاری ہے )
Monday, August 4, 2014
پاکستان اور اسرائیل کا مستقبل (حصہ دوم ) دجال کی حقیقت
پاکستان اور اسرائیل کا مستقبل (حصہ دوم )
گزشتہ تحریر میں ہم نے اسرائیلی زاینسٹ یہودیوں اور ان کے نجات دہندہ دجال کا مختصر ذکر کیا تھا.
یہاں میں چند احادیث کا حوالہ دونگا جس سے دجال کی حقیقت آپ کے سامنے واضح ہوجائیگی.
١: "حضرت عبدللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا " یقینا`` اللہ تعالیٰ تم پر مخفی نہیں بلاشبہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں جبکہ مسیح دجال داہنی آنکھہ سے کانا ہوگا اور اس کی وہ آنکھہ ایسی ہوگی جیسے انگور کا پھولا ہوا دانہ" (بخاری و مسلم )
اس حدیث سے چند باتیں واضح ہیں ١: دجال داہنی آنکھہ سے کانا ہوگا. ٢: وہ خدائی کا دعوہ کریگا. ٣: وہ عیب دار ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ تمام عیبوں سی پاک ہے.
٢: حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا " کوئی ایسا نبی نہیں گزرا جسنے اپنی امت کو جھوٹے کانے (یعنی دجال) سے نہ ڈرایا ہو آگاہ رہو، دجال کانا ہوگا اور تمہارہ پرودگار کانا نہیں، نیز اس(دجال) کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوا ہوگا " (بخاری و مسلم )
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فتنہ دجال کوئی معمولی فتنہ نہیں تبھی تو اللہ کے سارے انبیا علیھم السلام نے اپنی امتوں کو اس سے ڈرایا. یہاں یہ بھی واضح رہے کہ موجودہ دور میں اسرائیلی زاینسٹ یہودی خود کو سیدنا موسیٰ علیھ السلام اور تورات سے منسوب کرتے ہیں جبکہ حدیث میں واضح بتایا گیا ہے کہ ہر نبی نے اپنی امت کو ڈرایا ہے جسکا مطلب ہے کہ ان اسرائیلی زاینسٹس کو تورات اور سیدنا موسیٰ علیھ السلام سے کوئی نسبت نہیں ورنہ دجال کی پیروی کی بجائے اس کی مخالفت کرتے. اس حدیث میں ایک اور بڑی نشانی بیان کی گئی ہے وہ ہے دجال کے ماتھے پر ک ف ر کے حروف جوکہ اسکی پیشانی پر آنکھوں کا درمیان لکھے ہونگے-
٣: حضرت حذیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "دجال اس حالت میں ظاہر ہوگا کہ اس کے ساتھہ پانی ہوگا اور آگ ہوگی، تاہم لوگ جس چیز کو پانی سمجھیں گے وہ حقیقت میں جلانے والی ہوگی اور جس چیز کو لوگ آگ سمجھیں گے وہ حقیقت میں ٹھنڈہ اور شیریں پانی ہوگا پس تم میں سے جو شخص اس کو پاۓ تو اس کو چاہیے کہ اس چیز میں گرنا پسند کرے جس کو وہ آگ کی صورت میں دیکھے ( کیونکہ وہ آگ نہیں ہوگی بلکہ نہایت شیریں اور پسندیدہ پانی ہوگا ) " (بخاری و مسلم )
ہمیں اس حدیث کے ظاہری اور پوشیدہ دونوں معنوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے.
یا تو یہ معنی ہیں کہ دجال اپنی مخالفت کرنے والوں پر بموں کی آگ برسائیگا اور اس خبیث کے ہاتھوں شهید ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت کے چشموں کا ٹھنڈا پانی پلائیں گے جکہ دجال کے ساتھی جو دنیا میں دجال کے ساتھہ شراب پینے والے ہونگے وہ آخرت میں جہنم کی آگ میں ہونگے. ( یہ تشریح قران کے موافق بھی ہے )
اور یا یہ معنی ہونگے کہ دجال اپنی شبدہ بازی سے آگ کو پانی اور پانی کو آگ بنا کر پیش کریگا.
یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسکی آگ حقیقی ہو مگر اللہ تعالیٰ اس آگ سے جلانے کی تاثیر ہی ختم کردے جسطرح سیدنا ابراہیم علیھ السلام کے لیے نمرود کی آگ کو ٹھنڈا کردیا تھا اور پانی میں آگ کا اثر پیدا کردے. مگر اس سے یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ دجال کا پانی پینے کے بعد لازمی لوگ ہلاک ہونگے یا جلینگے اور ان کا انجام دیکھہ کر پھر اسکا پانی کوئی نہ پیئے جبکہ دجال ایسا کبھی بھی نہیں چاہیگا. (فقط واللہ العالم)
مختلف احادیث سے دجال کے بارے میں جو معلومات ملتی ہیں اگر ان کا اجماعی جائزہ لیا جائے تو دجال کی درجہ ذیل خصوصیات اور نشانیاں واضح طور پر سامنے آتی ہیں-
١: دجال جوان ہوگا.
٢: اسکے بال گھنگھریا لے ہونگے جو کسی درخت کی جڑ کی مانند ہونگے.
٣: اسکا جسم مظبوط اور رنگ سرخی مائل ہوگا.
٤: وہ داہنی آنکھہ سےاندھا ہوگا.
٥: دجال کے ماتھے پر ک ف ر کے حروف ہیں جواسکی پیشانی پر آنکھوں کا درمیان لکھے ہونگے.
٦: وہ شام اور عراق کے درمیانی راستے سے نمودار ہوگا.
٧: ایران کے شہر اصفہان کے ستر ہزار یہودی اسکے پیروکار ہونگے.
٨: وہ زمین میں دائیں بائیں فساد پھیلائے گا.
٩: شروع میں مصلح یا پیغمبر ہونے کا اور بعد میں خدائی کا دعوہ کریگا.
١٠: دنیا کے تمام شیاطین اس کے ساتھہ ہونگے جو اسکے حکم پر کبھی کسی مردے کا روپ دھارینگے کبھی کسی جانور کا.
١١: زمین کے خزانے اسکے پھیچے پھیچے ہونگے.
١٢: آسمان سے بارش برسائیگا زمین سے فصل اگائیگا.
١٣: مردوں کو زندہ کریگا.
١٤: وہ ملک ملک شہر شہر پھریگا مگر مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں داخل نہیں ہوسکے گا.
١٥: مدینہ کے باہر ایک کھارے علاقہ میں پڑاؤ ڈالیگا. (دجال پیلس مدینہ کے قریب جبل حبش کے اوپر تعمیر ہوچکا ہے )
١٦: وہاں سسے شام کا رخ کریگا. ( نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں اسرائیل نہیں تھا.)
١٧: عیسیٰ علیہ سلام اس کو باب لد کے مقام پر پکڑینگے تو دجال ان کے سامنےایسے ہوجائیگا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے.
مذکورہ بالا احادیث اور نشانیوں سے آپ بخوبی دجال کی صورت و خصلت اور اس شدید فتنہ کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو اسنے دنیا میں برپا کرنا ہے.
دجال کے بارے میں بتانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ اسرائیلی یہودیوں کے اس نجات دھندہ کو پہچان لیں جسکا وہ انتظار کر رہے ہیں اور جسکی حکومت قائم کرنے کے لئیے انہوں نے یو - این - او اور نیٹو جیسے ادارے قائم کئیے جو نیو ورلڈ آرڈر کے نفاذ کے لئیے کام کر رہے ہیں.
دجال کا سب سے بڑا مدد گار ابلیس بذات خود دجال کے پیروکار یہودیوں کی رہنمائی کر رہا ہے (جاری ہے)
١: دجال جوان ہوگا.
٢: اسکے بال گھنگھریا لے ہونگے جو کسی درخت کی جڑ کی مانند ہونگے.
٣: اسکا جسم مظبوط اور رنگ سرخی مائل ہوگا.
٤: وہ داہنی آنکھہ سےاندھا ہوگا.
٥: دجال کے ماتھے پر ک ف ر کے حروف ہیں جواسکی پیشانی پر آنکھوں کا درمیان لکھے ہونگے.
٦: وہ شام اور عراق کے درمیانی راستے سے نمودار ہوگا.
٧: ایران کے شہر اصفہان کے ستر ہزار یہودی اسکے پیروکار ہونگے.
٨: وہ زمین میں دائیں بائیں فساد پھیلائے گا.
٩: شروع میں مصلح یا پیغمبر ہونے کا اور بعد میں خدائی کا دعوہ کریگا.
١٠: دنیا کے تمام شیاطین اس کے ساتھہ ہونگے جو اسکے حکم پر کبھی کسی مردے کا روپ دھارینگے کبھی کسی جانور کا.
١١: زمین کے خزانے اسکے پھیچے پھیچے ہونگے.
١٢: آسمان سے بارش برسائیگا زمین سے فصل اگائیگا.
١٣: مردوں کو زندہ کریگا.
١٤: وہ ملک ملک شہر شہر پھریگا مگر مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں داخل نہیں ہوسکے گا.
١٥: مدینہ کے باہر ایک کھارے علاقہ میں پڑاؤ ڈالیگا. (دجال پیلس مدینہ کے قریب جبل حبش کے اوپر تعمیر ہوچکا ہے )
١٦: وہاں سسے شام کا رخ کریگا. ( نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں اسرائیل نہیں تھا.)
١٧: عیسیٰ علیہ سلام اس کو باب لد کے مقام پر پکڑینگے تو دجال ان کے سامنےایسے ہوجائیگا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے.
مذکورہ بالا احادیث اور نشانیوں سے آپ بخوبی دجال کی صورت و خصلت اور اس شدید فتنہ کا اندازہ لگا سکتے ہیں جو اسنے دنیا میں برپا کرنا ہے.
دجال کے بارے میں بتانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ اسرائیلی یہودیوں کے اس نجات دھندہ کو پہچان لیں جسکا وہ انتظار کر رہے ہیں اور جسکی حکومت قائم کرنے کے لئیے انہوں نے یو - این - او اور نیٹو جیسے ادارے قائم کئیے جو نیو ورلڈ آرڈر کے نفاذ کے لئیے کام کر رہے ہیں.
دجال کا سب سے بڑا مدد گار ابلیس بذات خود دجال کے پیروکار یہودیوں کی رہنمائی کر رہا ہے (جاری ہے)
Thursday, July 31, 2014
پاکستان اور اسرائیل کا مستقبل (حصہ اول)
پاکستان اور اسرائیل کا مستقبل (حصہ اول)
چودہ صدیاں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال اور اس کے پیروکار ( زاینسٹ ) یہودیوں کی شکست کے بارے میں بشارت دے دی تھی. اور اس مقام کا تعین بھی کردیا تھا جہاں پر اللہ کے مجاہدین چن چن کر ان ( زاینسٹ ) یہودیوں کو قتل کرینگے اورغرقد کی جھاڑیوں کے سوا کوئی پتھر کوئی دیوار ان کو پناہ نہیں دیگا. دلچسپ بات یہ کہ یہودی ( زاینسٹ ) پورے اسرائیل میں غرقد کاشت کررھے ہیں.
ایک حدیث کے مطابق عیسیٰ علیہ سلام لد کے دروازے پر دجال کو جا پکڑینگے اور اسے قتل کردینگے.
احادیث میں دجال اور اسکی سواری کے بارے میں کافی تفصیلات موجود ہیں اگر ان کو اکٹھا کر کے عصر حاضر کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دجال کی سواری کوئی ہوائی جہاز ہے. یہاںچند باتیں ذہن میں رکھیں-
١: دجال کی سواری کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانے کے لحاظ سے سمجھایا تھا.
٢: اسرائیل ١٩٤٨ میں یہاں قابض ہوا اس سے پھلے یہاں کوئی یہودی آباد نہ تھا.
٣: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لد صرف ایک میدان تھا یہاں کوئی دروازہ نہ تھا.
چودہ صدیاں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشگوئیاں کی وہ آج سچ ثابت ہورہی ہیں.
آج اسرائیل میں یہودی بھی جمع ہو گئے ہیں. لد کے میدان میں اسرائیل کا بن گورین ائیرپورٹ بھی بن گیا ہے. زیر نظر تصویر میں اس ائیرپورٹ کے داخلی راستے کی نشاندھی کی گئی ہے.
موجودہ دنیا میں غالبا وہ مقام جہاں سیدنا عیسیٰ علیہ سلا م دجال کو قتل کرینگے.
اس سے ایک بات عیاں ہے کہ دجال کا طیارہ ائیرپورٹ پر ہوگا اور وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کریگا دریں اثنا عیسیٰ علیہ سلامہ ائیرپورٹ کے دروازے پر اسے پکڑ کر قتل کردینگے.
احادیث کے مطابق دجال کانا ہوگا اور اس کے ما تھے پر تین حروف "ک - ف - ر" لکھے ہونگے، اگر ہم انگریزی میں ان حروف کے متبادل لکھیں تو k f r لکھینگے. زیر نظر تصویر میں آپ دجال کی آنکھہ کے نشان والا اسرائیلی کفیر بریگیڈ کا جہاز دیکھیں جس پر تقریبا یہی الفاظ لکھے ہوئے ہیں-
اسرائیل کے ( زاینسٹ ) یہودی بڑی شدت سے دجال کا انتظار کر رہے ہیں کیونکہ وہ دجال کو اپنا نجات دہندہ اور بادشاہ مانتے ہیں جو پوری دنیا پر حکومت کریگا. اس کے آنے سے پہلے وہ نہ صرف دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ گریٹر اسرائیل کی راہ بھی ہموار کرنا چا ہتے ہیں. ان مقاصد کے حصول کے لیے انہوں نے امریکی حکومت کو یرغمال بنایا اور امریکی عسکری طاقت کے بل بوتے پر افغانستان، عراق، لیبیا کو بد ترین بربریت کا نشانہ بنایا عرب ممالک کو عیاشی میں لگا کر یہ تسلی کرلی کہ ان میں سے کوئی بھی ان کے راہ کی رکاوٹ نہ بن سکے.
اب انکے ناپاک عزائم کی راہ میں صرف ایک رکاوٹ ہے اور وہ ہے واحد مسلمان ایٹمی طاقت پاکستان-
( جاری ہے )
Wednesday, July 16, 2014
Tuesday, August 13, 2013
ہندوستان کا جنگی جنون
امریکی حکومت نے مارچ ٢٠١٤ تک افغانستان سے اپنی تمام افواج واپس بلانے کا اعلان کیا ہے اور ان کی بہ حفاظت واپسی تب ہی ممکن ہے جب ان کی جگہ کوئی متبادل فوج افغانستان میں موجود ہو، جہاں تک افغان نیشنل آرمی کا تعلق ہے تو وہ اس قابل نہیں کہ افغان طالبان کا مقابلہ کرسکیں، اس خطرے کے پیش نظر پچلھے دو تین سالوں میں مختلف زاویوں سے اس مسلے کو حل کرنے کی کوششیں کی گئیں جیسے کہ طالبان سے مذاکرات اور ان کو حکومت میں شامل کرنے کے فارمولے بعض معتبر ذرائع کے مطابق طالبان رہنماؤں کو رشوت دیکر ساتھ ملانے کی بھی سعی کی گئی بعد میں معلوم ہوا کہ جن کو ڈالرز دیے گئے تھےوہ جعلی رہنما تھے.
حالات کی نزاکت بھانپتے ہوئے ہندوستان نے افغانستان میں اپنی افواج اور بدنام زمانہ را ایجنٹس کی تعداد بڑھانی شروع کی تاکہ امریکہ ان کو بطور متبادل قوت تمام اختیارات سونپ جائے اور یوں ہندوستان پاکستان کو دونوں اطراف سے جنگ میں الجھا سکے اس مقصد کے لئے ہندوستان نے جہاں افغانستان میں ٢١ قونصلیٹ قائم کئے وہاں ١١ جنگی ہوائی اڈوں کا نظم و نسق بھی سنبھالا ہوا ہے نیز موساد اور خاد (افغانستان کی خفیہ ایجنسی ) کیساتھ ملکر رام نامی خفیہ دہشت گرد تنظیم کی سرپرستی بھی کررہا ہے اس تنظیم کا کام پاکستان کے قبائلی علاقوں، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنا کر دہشت گردی کروانا اور نسلی، لسانی و مسلکی بنیادوں پر تفرقہ ڈالنا اور پاکستان کو کمزور کرنا ہے. ہندوستان اپنے اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے. اب اس کو انتظار ہے کہ کسی طور پاکستان کوبدنام کرکے جنگی جواز پیدا کیا جائے. کبھی بے گناہ کشمیریوں کو دہشت گرد کہہ کر شهید کیا جارہا ہے تو کبھی ایل - او - سی پر خود اپنے فوجیوں کو قتل کرکے پاکستان کو بدنام کیا جارہا ہے-
دوسری طرف وہ پاکستانی میڈیا میں موجود چند غداروں کے ذریعے پاک فوج اور آئی-ایس-آئی کی کردار کشی کررہا ہے تاکہ پاک فوج اورعوام میں نفرت پیدا کی جائے اور یوں حالت جنگ میں پاک فوج کو عوامی حمایت سے محروم کیا جائے.
ہندوستان اپنی تمام تر تیاریوں کیساتھ اب صرف کوئی بہانہ تلاش کررہا ہے اپنی میڈیا کے ذریعےہندوستانی عوام میں جنگی جنون بھڑکا رہا ہے یہ سوچ کر کہ پاکستان کو خدا نخواستہ ہمیشہ کے لئے ختم کردینگے.
مگر الله کی تدبیرکچھ اور ہے. ہندوستان جس کو تر نوالہ سمجھ رہا ہے وہ اس کے لئے زہر قاتل ثابت ہوگا افغانستان میں جس فوج کو وہ پاکستان پر حملے کے لئے جمع کر رہا ہے وہ افغان طالبان کے لئے نشانہ بازی کی مشق کے سوا کچھ نہیں کیونکہ ان کی سپلائی لائن پاکستان سے ہوکر گزرتی ہے عدم رسد کے باعث وہ افغانستان میں محصور ہوکر رہ جائینگے. دوسری طرف کشمیری مجاہدین بھی اس صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھائیںگے نیز ہندوستان میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کے لئے بھی یہ سنہری موقع ہوگا. رہی سہی کسر انشاءاللہ پاک فوج اور پاکستانی عوام کی قربانیوں سے پورا ہوجائیگا.
اور یوں ہندوستان کو فتح کرنے کی جو خوشخبری آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ و سلم نے غزوہ ہند کے نام سےدی تھی وہ پوری ہوجائیگی.
اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اس خوشخبری پر یقین کرکے کامیاب ہوتھا ہے اور کون امن کی آشا اور باہمی تجارت کے منصوبوں کے جال میں پھنس کر اپنی عاقبت برباد کرتا ہے.
حالات کی نزاکت بھانپتے ہوئے ہندوستان نے افغانستان میں اپنی افواج اور بدنام زمانہ را ایجنٹس کی تعداد بڑھانی شروع کی تاکہ امریکہ ان کو بطور متبادل قوت تمام اختیارات سونپ جائے اور یوں ہندوستان پاکستان کو دونوں اطراف سے جنگ میں الجھا سکے اس مقصد کے لئے ہندوستان نے جہاں افغانستان میں ٢١ قونصلیٹ قائم کئے وہاں ١١ جنگی ہوائی اڈوں کا نظم و نسق بھی سنبھالا ہوا ہے نیز موساد اور خاد (افغانستان کی خفیہ ایجنسی ) کیساتھ ملکر رام نامی خفیہ دہشت گرد تنظیم کی سرپرستی بھی کررہا ہے اس تنظیم کا کام پاکستان کے قبائلی علاقوں، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنا کر دہشت گردی کروانا اور نسلی، لسانی و مسلکی بنیادوں پر تفرقہ ڈالنا اور پاکستان کو کمزور کرنا ہے. ہندوستان اپنے اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے. اب اس کو انتظار ہے کہ کسی طور پاکستان کوبدنام کرکے جنگی جواز پیدا کیا جائے. کبھی بے گناہ کشمیریوں کو دہشت گرد کہہ کر شهید کیا جارہا ہے تو کبھی ایل - او - سی پر خود اپنے فوجیوں کو قتل کرکے پاکستان کو بدنام کیا جارہا ہے-
دوسری طرف وہ پاکستانی میڈیا میں موجود چند غداروں کے ذریعے پاک فوج اور آئی-ایس-آئی کی کردار کشی کررہا ہے تاکہ پاک فوج اورعوام میں نفرت پیدا کی جائے اور یوں حالت جنگ میں پاک فوج کو عوامی حمایت سے محروم کیا جائے.
ہندوستان اپنی تمام تر تیاریوں کیساتھ اب صرف کوئی بہانہ تلاش کررہا ہے اپنی میڈیا کے ذریعےہندوستانی عوام میں جنگی جنون بھڑکا رہا ہے یہ سوچ کر کہ پاکستان کو خدا نخواستہ ہمیشہ کے لئے ختم کردینگے.
مگر الله کی تدبیرکچھ اور ہے. ہندوستان جس کو تر نوالہ سمجھ رہا ہے وہ اس کے لئے زہر قاتل ثابت ہوگا افغانستان میں جس فوج کو وہ پاکستان پر حملے کے لئے جمع کر رہا ہے وہ افغان طالبان کے لئے نشانہ بازی کی مشق کے سوا کچھ نہیں کیونکہ ان کی سپلائی لائن پاکستان سے ہوکر گزرتی ہے عدم رسد کے باعث وہ افغانستان میں محصور ہوکر رہ جائینگے. دوسری طرف کشمیری مجاہدین بھی اس صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھائیںگے نیز ہندوستان میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں کے لئے بھی یہ سنہری موقع ہوگا. رہی سہی کسر انشاءاللہ پاک فوج اور پاکستانی عوام کی قربانیوں سے پورا ہوجائیگا.
اور یوں ہندوستان کو فتح کرنے کی جو خوشخبری آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ و سلم نے غزوہ ہند کے نام سےدی تھی وہ پوری ہوجائیگی.
اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اس خوشخبری پر یقین کرکے کامیاب ہوتھا ہے اور کون امن کی آشا اور باہمی تجارت کے منصوبوں کے جال میں پھنس کر اپنی عاقبت برباد کرتا ہے.
Friday, August 2, 2013
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
صدارتی انتخابات قبل از وقت اس لیے کرانے گئے تا کہ میاں صاحب عمرہ ادا کرسکیں اور عمرہ اسلیے تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ کہ جان کیری نے شرف ملاقات بخشنا چاہا. اس بات سی ایک معمولی فہم والا انسان بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کیلیے امریکہ کی دوستی کتنی اہمیت کی حامل ہے.
پچلھی ایک دہائی سے جاری ڈرون حملے ہماری خود مختاری کا مزاق اڑا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ہمارے حکمران اقتدار کے استحکام کیلیے ان لوگوں کو منارہی ہے جو بقول انکے دہشت گرد ہیں جو متعدد بار پاکستان کو ٹھکرے ٹھکرے کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں. ملکی میڈیا پر غداروں کا راج ہے پاکستانی قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ سب ملکر آخر بے وقوف کس کو بنا رہے ہیں. کوئی آکر ترکی والا اسلام لانا چاہتا ہے تو کسی کو منبر و محراب سے شکایت ہے. آخر بتا کیوں نہیں دیتے کہ سب کا اصل مدعا کیا ہے.
کوئی کسر رہ گئی ہو تو بتادو ہمارے فوجی جوانوں کو شهید کیا جارہاہے. ماؤں بہنوں کی عزت لوٹی جارہی ہے. ہمارے پچوں کو قتل کیا جارہاہے. تعلیم، روزگار،صحت کی سہولیات ناپید ہیں مہنگائی اپنے عروج پر ہے. خارجہ پالیسی کا یہ حال ہےکہ افغانستان میں ہمارے پرچم کو آگ لگایا گیاجبکہ اسی افغانستان میں ہندوستان کےاکیس قونصلیٹ کام کررہے ہیں. ایران ہم سسے ناراض ہے سعودی عرب سے ہمیں نکالا جارہا ہے پاکستانی دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں شرم کے مارے اپنی شناخت چپھاتے پھرتے ہیں. اس سے مزید اورکیا ہوسکتا ہے.
ہم پاکستانی تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں مگر برابری کی بنیاد پر.
جسطرح ہم دوسروں کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں اسی طرح ہماری خود مختاری کا بھی احترام کیا جائے.
ہندوستان سے تجارت بھی کرو دوستی بھی رکھو لیکن سب سی پہلے کشمیر باقی سب بعد میں.
ملک کا سب سی بڑا مسلہ لوڈ شیڈنگ نہیں بلکہ باہمی اعتماد کا فقدان اور فرقہ واریت ہے جس سی ہمارے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں.
ان سب مسائل کا حل صرف لا الہ میں ہے.
Thursday, August 1, 2013
زاہدان شہر اور عامر لیاقت
زاہدان شہر اور عامر لیاقت
زاہدان شہر اور عامر لیاقت
ایران کے شہرزاہدان کا پرانا نام دوزداب تھا جسکے معنی ہیں پانی کے چور یا آپ اس کو بحری قزاق بھی کہہ سکتے ہیں.
یہ شہر پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد سے صرف ٢٥ میل کے فاصلے پر ہے یہاں پر بلوچی فارسی اور کسی حد تک پشتو بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے. پاکستان کی آزادی سے قبل افغانستان کے تاجر متحدہ ہندوستان جبکہ سکھ اور ہندو تاجر موجودہ پختونخواہ، بلوچستان، افغانستان سمیت ایران کے مذکورہ شہر دوزداب تک تجارتی غرض سے جاتے تھے. اپنے مخصوص حلیئے کی وجہ سے کم تعداد میں ہونے کے باوجود شہر بھر میں نمایاں نظر آتے.
دوزداب شہر کی تقدیر اس وقت بدلی جب شاہ ایران رضا شاہ شہر کے دورے پر آئے. اور اس نے سادہ لباس میں ملبوس لمبی دھاڑیوں والے یہ لوگ جنہوں نے سروں پر پگڑیاں بھی باندھی ہوئی تھیں دیکھا تو بول اٹھا کہ یہ تو پورا شہر ہی زاہدوں (متقی اور پرہیزگار) لوگوں کا ہے بغیر تحقیق کے ہی بحری قزاقوں کے شہر کو زاہدان بنادیا.
انسانی تاریخ میں اسطرح کی کئی مضحکہ خیز غلطیاں ہوئیں کہ جن کو بعد میں بھی درست نہیں کیا گیا. اب اسی طرح کی غلطی ہمارے ملک میں بھی ہوئی جب ایک بھانڈ نے کسی عالم کا روپ دھارا اور ہم نے بھی بغیر تحقیق کے ہی اسکو عالم ماننا شروع کردیا اب اسکی مرضی وہ رمضان کا مذاق اڑائےیاانسان کا کیونکہ بھانڈ (مسخرے ) کا کام ہی مذاق اڑانا ہوتا ہے.
مداری تب ہی بندر کو نچاتا ہے جب اسکے ارد گرد مجمع ہو ورنہ بندر کو کیا پڑی ہے خواہ مخواہ خود کو ہلکان کرتا رہے.
ہم اگر بندر کا تماشہ دیکھنا چھوڑ دیں تو کیا خیال ہے وہ پھر ناچے گا. سوچیتے.
Tuesday, July 30, 2013
زاہدان شہر اور عامر لیاقت
زاہدان شہر اور عامر لیاقت
ایران کے شہرزاہدان کا پرانا نام دوزداب تھا جسکے معنی ہیں پانی کے چور یا آپ اس کو بحری قزاق بھی کہہ سکتے ہیں.
یہ شہر پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ سرحد سے صرف ٢٥ میل کے فاصلے پر ہے یہاں پر بلوچی فارسی اور کسی حد تک پشتو بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے. پاکستان کی آزادی سے قبل افغانستان کے تاجر متحدہ ہندوستان جبکہ سکھ اور ہندو تاجر موجودہ پختونخواہ، بلوچستان، افغانستان سمیت ایران کے مذکورہ شہر دوزداب تک تجارتی غرض سے جاتے تھے. اپنے مخصوص حلیئے کی وجہ سے کم تعداد میں ہونے کے باوجود شہر بھر میں نمایاں نظر آتے.
دوزداب شہر کی تقدیر اس وقت بدلی جب شاہ ایران رضا شاہ شہر کے دورے پر آئے. اور اس نے سادہ لباس میں ملبوس لمبی دھاڑیوں والے یہ لوگ جنہوں نے سروں پر پگڑیاں بھی باندھی ہوئی تھیں دیکھا تو بول اٹھا کہ یہ تو پورا شہر ہی زاہدوں (متقی اور پرہیزگار) لوگوں کا ہے بغیر تحقیق کے ہی بحری قزاقوں کے شہر کو زاہدان بنادیا.
انسانی تاریخ میں اسطرح کی کئی مضحکہ خیز غلطیاں ہوئیں کہ جن کو بعد میں بھی درست نہیں کیا گیا. اب اسی طرح کی غلطی ہمارے ملک میں بھی ہوئی جب ایک بھانڈ نے کسی عالم کا روپ دھارا اور ہم نے بھی بغیر تحقیق کے ہی اسکو عالم ماننا شروع کردیا اب اسکی مرضی وہ رمضان کا مذاق اڑائےیاانسان کا کیونکہ بھانڈ (مسخرے ) کا کام ہی مذاق اڑانا ہوتا ہے.
مداری تب ہی بندر کو نچاتا ہے جب اسکے ارد گرد مجمع ہو ورنہ بندر کو کیا پڑی ہے خواہ مخواہ خود کو ہلکان کرتا رہے.
ہم اگر بندر کا تماشہ دیکھنا چھوڑ دیں تو کیا خیال ہے وہ پھر ناچے گا. سوچیتے.
Monday, July 29, 2013
معاشرتی کینسر
معاشرتی کینسر
آج سے چند سال پہلے جب میرے والد صاحب کو کینسر لاحق ہوا تو اس موذی مرض اور اسکی تباہ کاریوں کے بارے میں میری معلومات میں کچھ اضافہ کرگیا. بفضل خدا میرے والدصاحب اب مکمل صحتیاب ہیں لیکن جب بھی انکی اس بیماری کا تذکرہ آتا ہے تو چند سال پہلے کے کرب کو کچھ لمحوں کیلیے ذہن پر مسلط کردیتا ہے. ڈاکٹروں کے مطابق کینسر دراصل خلیوں کے بے تحاشہ تقسیم کا عمل ہے یہ خلیے ہمارے جسم کے دفاعی نظام کو بتدریج کمزور کرنا شروع کرتے ہیں نیز یہ کہ یہ ہماری جسم سے ہی غذاء حاصل کرتے ہیں جبکہ یہ مکمل طور پر ہمارے جسمانی نظام سے آزاد ہوتے ہیں. اگر بروقت انکو روکا یا کاٹ کر علیحدہ نہ کیا جائے تو یہ ہمارے دفاعی نظام پر حاوی ہوکر ہمیں موت کی نیند سلادیتے ہیں.
جسطرح جسم کا کینسر جسمانی نظام کو تباہ کردیتا ہے بلکل اسی طرح معاشرتی کینسر معاشرتی نظام کو تباہ کردیتا ہے. اس کینسر کا طریق کار بھی وہی ہے یہ معاشرے کوبے تحاشہ تقسیم کردیتا ہے اول لسانی بنیاد پر سندھی، بلوچی ، پھٹان، پنجابی اور کشمیری کے نام پر اور جب وہاں اپنے پنجے گاڑھ لیتا ہے تو پھر شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، وہابی کے نام پر اور یوں یہ تقسیم بٹ، اعوان، گجر، آرائیں تک پہنچ کر معاشرے کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے.
معاشرے کے یہ کینسر زدہ خلیے بھی ملکی نظام کا خوں چوس کر ہی پلتے ہیں اور رفتہ رفتہ ملک کو کمزور کر رہے ہوتے ہیں. یہ کینسر زدہ خلیے بھی ملکی دفاعی نظام پر حاوی ہونے کی کوشش کرتے ہیں. اور یہ بھی مکمل طور پر ملک کے قانون سے آزاد ہوتے ہیں.
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی بڑ ھوتری کو روکا جائے اور یا پھر ان کو جڑھ سے ہی اکاڑ کر پھینک دیا جائے ورنہ اللہ نہ کرے یہ کینسر اس پاک سرزمین کونابود کر دیگا.
Sunday, July 28, 2013
مسلمانان ہند کی آواز
مسلمانان ہند کی آواز
کوئی بھی چیز جو باآسانی مل جاتے اس کی قدر و قیمت ہماری نظروں میں کم ہوتی ہے. پھروہ لوگ جو کہ کسی درجے ذہین ہیں اس وقت احساس کرلیتے ہیں جب کسی اور کو اس نعمت سسے محروم پاتے ہیں اور جو باقی ہیں ان کو تب ہی احساس ہوتا ہے جب وہ خود اس نعمت سے محروم ہوں.
میرے ایک عزیز دوست کےصاحبزادے جو کہ رواں سال الیکٹریکل انجینئیر بننے والے ہیں ملکی اور بین الاقوامی سیاست اور اس پر بحث و مباحثے میں کافی دلچسپی رکتھے ہیں. پچلھے دنوں انکے ساتھ ایک نشست کا اتفاق ہوا ، اس جوان کے خیالات اور نظریات سن کر ایک لمحے کو تو یوں لگا جیسے میں بال ٹھاکرے سے مخاطب ہوں. اپنی پاک سرزمین سی اس قدر نفرت کا موجب کیا ہوسکتا ہے ماسوا ئے اس پروپیگنڈے کے جو بھارت نواز میڈیا پاکستان کے جوانوں میں پھیلارہا ہے.
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں نعمت آزادی کا احساس ہی نہیں ورنہ ہم خریدی ہوئی میڈیا کے جھانسے میں آکر اس عظیم نعمت کا کفر کبھی نہ کرتے ہماری میڈیا پر چمکتے دمکتے دکھائی دینےوالے ہندوستان میں صرف کترینہ اور سلمان ہی رہتے ہیں یا پھر Bollywood کے چند اور رقاص اور بھانڈ جبکہ حقیقی ہندوستان کا حال یہ ہے کہ ہماری آبادی سے زیادہ لوگ وہاں فٹ پاتھ پر زندگی بسر کر رہے ہیں. اس ہندوستان میں زندگی سستی اور روٹی مہنگی ہے. وہاں کے مسلمان اچھوت سے بھی بدترزندگی گزار رہے ہیں. کئی دہائیوں تک ہندؤں کی ظلم و بربریت برداشت کرنے کے بعد اب وہاں کے مسلمان سلطان صلاح الدین اویسی کے صاحبزادے اکبر اویسی کی قیادت میں اکٹھے ہوتے ہیں اور ہندؤں کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے مگر افسوس کہ ہماری میڈیا کے کانوں تک اس مرد مجاہد کی آواز نہیں پہنچ رہی.
(اکبر اویسی کی ویڈیو دیکھنے کے لیے کلک کریں )
آج ہم جسمانی طور پر تو آزاد ہیں لیکن ذہنی طور پر بد ترین غلامی میں ہیں. آج اہل علم و اہل منصب کے ساتھ ساتھ والدین کا بھی یہ فرض ہے کہ اپنی جوان نسل کی اعلی ترین ذہنی تربیت کریں ورنہ آنے والے دور میں ہم تاریخ کے چند اوراق کے سوا کچھ نہ ہونگے ہمارا نام و نشان بھی مٹ جائیگا.
حقیقت یہ ہے کہ ہمیں نعمت آزادی کا احساس ہی نہیں ورنہ ہم خریدی ہوئی میڈیا کے جھانسے میں آکر اس عظیم نعمت کا کفر کبھی نہ کرتے ہماری میڈیا پر چمکتے دمکتے دکھائی دینےوالے ہندوستان میں صرف کترینہ اور سلمان ہی رہتے ہیں یا پھر Bollywood کے چند اور رقاص اور بھانڈ جبکہ حقیقی ہندوستان کا حال یہ ہے کہ ہماری آبادی سے زیادہ لوگ وہاں فٹ پاتھ پر زندگی بسر کر رہے ہیں. اس ہندوستان میں زندگی سستی اور روٹی مہنگی ہے. وہاں کے مسلمان اچھوت سے بھی بدترزندگی گزار رہے ہیں. کئی دہائیوں تک ہندؤں کی ظلم و بربریت برداشت کرنے کے بعد اب وہاں کے مسلمان سلطان صلاح الدین اویسی کے صاحبزادے اکبر اویسی کی قیادت میں اکٹھے ہوتے ہیں اور ہندؤں کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے مگر افسوس کہ ہماری میڈیا کے کانوں تک اس مرد مجاہد کی آواز نہیں پہنچ رہی.
(اکبر اویسی کی ویڈیو دیکھنے کے لیے کلک کریں )
آج ہم جسمانی طور پر تو آزاد ہیں لیکن ذہنی طور پر بد ترین غلامی میں ہیں. آج اہل علم و اہل منصب کے ساتھ ساتھ والدین کا بھی یہ فرض ہے کہ اپنی جوان نسل کی اعلی ترین ذہنی تربیت کریں ورنہ آنے والے دور میں ہم تاریخ کے چند اوراق کے سوا کچھ نہ ہونگے ہمارا نام و نشان بھی مٹ جائیگا.
Saturday, July 27, 2013
جوش خطابت
ہم پاکستانی بہت جذباتی ہیں ہر کام، ہرچیز، ہرفیصلےکےساتھ جذباتی طور پر وابسطہ ہوتے ہیں اور یہی امید کرتے ہیں سب کچھ ہماری توقعات کے مطابق ہو. کرکٹ کو ہی دیکھ لیں پاکستان کے مقابل ہم کسی کی جیت برداشت ہی نہیں کرسکتے. اگر پاکستانی ٹیم ہار جاۓ تو اس پر طرح طرح کے الزامات لگاکرکسی طوراپنےغصے کوکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں. اور جیت جائیں تو ہر ہر کھلاڑی کی تعریف کرتے رهینگے یہ بھول کر کہ پچھلی ہار پر ان بچاروں کی شان میں کیا کچھ نہیں کہاتھا. زندگی کے دوسرے معاملات میں بھی ہم کچھ ایسا ہی سوچتے ہیں.
حالیہ دنوں میں الطاف حسین کی بارے میں آ نے والی خبروں سے ایک عام پاکستانی یہی اندازہ لگا رہا تھا کہ شائد اب ان کو کوئی پناہ دینے والا نہیں پروہ کیاکہتے ہیں کہ دوست وہ جو مصیبت میں کام آۓ. یھاں تو بات دوستی سے بھی آگے کی ہے کئی بار الطاف حسین میاں صاحب کو بڑا بھائی کہہ چکے ہیں. اب اگر میاں صاحب نے بڑا بھائی بن کر چھو ٹے بھائی کو گلے لگایا تو اس پر اتنا واویلا کرنے کی کیا ضرورت ہے.
کچھ احباب کا یہ کہنا کہ میاں صاحب کے اس طرز عمل سے انکے کافی سارے ووٹرز ناراض ہونگے. تو بھئی اول تو یہ کہ الیکشن پانچ سال بعد ہونگے، دوسری بات یہ کہ پاکستان میں کسی حکومت کی کارکردگی خواہ کچھ بھی ہو کم از کم اگلی دفعہ حکومت میں رهنے والی پارٹی اپوزیشن میں ہی ہوتی ہے. ان سب عوامل کو ذہن میں رکھنے کی بعد میاں صاحب کی پالیسیوں پرغورکریں تو آپ پران کی دور اندیشی عیاں ہوجائیگی، رہی بات میاں صاحب کے اس انٹرویو کی جسمیں انہوں نے MQM کو دہشت گرد قرار دیا تھا تومیں توصرف اتنا ہی کہونگا کہ بھئی آخرجوش خطابت بھی کوئی چیز ہے.
Subscribe to:
Posts (Atom)




.jpg)










